Skip to main content

Posts

Surah Al-Naml # 60

.. Surah Al-Naml # 60 بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتار پھر ہم نے اس سے رونق والے باغ اگائے تمہارا کام نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے کیا الله تعالیٰ کے ساتھ کوئی اوربھی معبود ہے بلکہ یہ لوگ کجروی کر رہے ہیں Or the One who created the heavens and the earth and sent down for you water from the sky? Then We caused to grow with it gardens, full of glamour. It was not within your ability to grow their trees. Is there any god along with Allah? No, but they are a people who equate (others with Allah)

Ibn-e-Majah, Book Al'zahad, Chaptar Alreya, Hadees:4194 ]

حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کررہے تھے۔ اتنے میں رسول (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) تشریف لائے اور فرمایا کہ: ”کیا میں تمہیں دجال کے فتنے سے زیادہ خطرناک بات سے آگاہ نہ کروں؟ ہم نے عرض کیا۔ ضرور یا رسول اللہ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ)! آپ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے فرمایا: ”شرک خفی دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو اور نماز کو اس لیے لمبا کرے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے [ سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الریا والسمعۃ، حدیث:4194 ] Narrated Abu Saeed ؓ that we were discussing about Dajjal when Prophet ﷺ came and asked " Shall I tell you about the biggest and dangerous temptation than Dajjal ?". We said, sure O Prophet ﷺ. Then the Prophet ﷺ said, its religious show-off which is more dangerous than dajjal, and it is that a man stand up for prayer/namaz and make it long because any person is watching him. [Ibn-e-Majah, Book Al'zahad, Chaptar Alreya, Hadees:4194 ]

Nafs ka tajruba aur farishton ka sharmana

..... * نفس کا تجربہ اور فرشتوں کا شرمانہ * ..... ایک دفعہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ویسے ہی لیٹے رہے ۔۔۔حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بات کر کے چلے گئے۔ ۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) لیٹے رہے حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بات کر کے چلے گئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)ا اُٹھ بیٹھے اور اپنے کپڑے ٹھیک کر لئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولیں۔۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ابوبکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے لئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں اٹھے۔لیکن عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے لئے اٹھ بیٹھے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“ کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں“ ------ ایک دن امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنہا کھجوروں کے باغ سے اس حال میں تشریف لا رہے تھے کہ لکڑیوں کا گٹھا ...

Tobah

Gharoor toot gaya magar koye martaba na mil

Gharoor toot gaya magar koye martaba na mila, sitam ke bad bhi kuch hasil jafa na mila, sir hussain(R.A) mila hay yazeed ko lakin shekast ye hay ke per bhi juka hua na mila

Ibn-e-Majah , Chapter: Misl-e-Duniya, Hadees:4110

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم ذوالحلیفہ میں رسول اللہ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) کے ساتھ تھے۔ اچانک آپ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے ایک مردہ بکری دیکھی جو اپنا پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے پڑی تھی۔ آپ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے فرمایا تم کیا سمجھتے ہو؟ یہ بکری اپنے مالک کے لئے بیکار ( ذلیل ) ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک جتنی حقیر ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی حیثیت اور قدر و قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیا سے کبھی بھی ایک قطرہ پینے کو نہ دیتا [ سنن ابن ماجہ، باب مثل الدنیا، حدیث:4110 ] Hazrat Sahl Bin Saad ؓ narrated that we were with Prophet ﷺ in Zul'Khalifa when we came across a dead goat. Prophet ﷺ said what do you understand ?. This goat is useless (humiliation) for its owner. By ALLAH, in whose hand is my life, this world is more useless for ALLAH than this goat is for his owner....

Sahi muslim jild soom:Hadees 2914 Hadees marfoh

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2914 حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 5