قرآن بالکل واضح اور راست ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں الله تبارک و تعالٰی نے، جس کی حمد بے حد ہے اور جس کی توصیف و ثنا کی کوئی انتہا نہیں ، اپنی تعریف خود کی اور فرمایا کہ وہ قرآن عظیم نازل کرنے پر حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ اس سے اس کا مقصد اس بات سے مطلع کرنا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس کی سب سے بڑی نعمت ہے، اس لیے کہ یہ قرآن کریم اس دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس سے انسانوں کو شرف و کمال حاصل ہوتا ہے اور اس چیز کی طرف بلاتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی صلاح و فلاح ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو سکھایا کہ وہ قرآن کی عظیم الشان اور جلیل القدر نعمت عطا ہونے پر الله تعالٰی کی حمد و ثنا کس طرح کریں۔ الله تعالٰی نے فرمایا: "ساری حمد و ستائش الله تعالٰی ہی کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی، ٹھیک اور سیدھی (بغیر کسی افراط و تفریط کے نازل فرمائی۔") (سورۂ الکھف: 18: آیت نمبر: 1 تا 2) اہل لغت کا بیان ہے کہ معانی میں کجی بھی اسی طرح ہوتی ہے جس طرح خود اشیاء میں ٹیڑھ پن ہوتا ہے اور قرآن میں کجی کی نفی کئی اعتبار سے ہے: اس کی آیا...