Tuesday, 4 February 2014

Umer farooq(R.A)



اہل شام میں ایک بڑا بارعب اور قوی شخص تھا اور وہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا کرتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ کافی دن نہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اسکا حال پوچھا لوگوں نے کہا امیر المومنین اس کا حال نہ پوچھیں وہ تو شراب میں مست رہنے لگ گیا ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے منشی کو بلایا اور کہا کہ اس کے نام ایک خط لکھو ۔ آپ نے خط میں لکھوایا
منجانب عمر بن خطاب بنام فلاں بن فلاں السلام علیکم ۔ میں تمہارے لیے اس اللہ کی حمد پیش کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ گناہوں کو معاف کرنے والا ، توبہ کو قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور بڑی قدرت والا ہے ۔ اسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ہمیں اسکی طرف لوٹ کر جانا ہے
پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ اپنے بھائی کے لیے سب مل کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے اور اسکی توبہ کو قبول فرمائے ۔ سب نے مل کر دعا کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خط قاصد کو دیا اور کہا یہ خط اسے اس وقت دینا جب وہ نشے میں نہ ہو اور اس کے سوا کسی کو نہ دینا
جب اس کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خط پہنچا تو اس نے پڑھا اور بار بار ان کلمات کو پڑھتا رہا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے بھی ڈرایا گیا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی یاد دلایا گیا ہے ۔ وہ خط پڑھ کر رونے لگا اور شراب نوشی سے توبہ کرلی اور ایسی توبہ کی کہ پھر کبھی شراب کے پاس نہ گیا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اسکی توبہ کی خبر ملی تو لوگوں سے فرمایا ۔ کہ ایسے معاملات میں تم لوگوں کو ایسے ہی کرنا چاہیے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہوجائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ اور اللہ سے اس کے لیے دعا کرو تاکہ وہ توبہ کرلے ، اور تم اس کے مقابلے پر شیطان کے مددگار نہ بنو ۔ یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر دین سے دور کردو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی

Thursday, 30 January 2014

Surah furqan 63



رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل اُن کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام 

(سورہ الفرقان 63)

Mufrad log



نبیء رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "مفرد لوگ بازی لے گئے"
پوچھا گیا، "مفرد لوگ کون ہیں يا رسول الله ؟"
ارشاد فرمایا، "اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں"
(رواہ مسلم)

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں، "میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اگر وہ مجھے کسی مجمع کے اندر یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر مجمع (یعنی ملائکہ) کے اندر یاد کرتا ہوں"
(متفق علیہ)

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، "اللہ کا ذکر اس کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ (پاگل) کہنے لگیں"
(رواہ احمد)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اھلِ جنت کو اپنی زندگی کے صرف اس لمحے پر حسرت ہو گی جو اللہ کے ذکر کے بغیر گزرا"
(رواه الطبرانى والبیهقی)

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، "وہ ذکرِ الٰہی جسے کراماً کاتبین (فرشتے) نہیں سنتے (یعنی ذکرِ خفی)، اس ذکر سے ستّر (70) درجے افضل ہے جسے وہ سنتے ہیں"
(رواه البیهقی)

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکرِ خفی جسے کراماً کاتبین (فرشتے) نہیں سنتے، ستّر (70) گنا افضل بیان فرماتے ہوئے فرمایا، "قیامت کے دن جب اللہ تعالٰی مخلوق کو جمع کرے گا اور کراماً کاتبین اپنی تحریریں لے کر آئیں گے تو اللہ کریم انہیں فرمائے گا کہ دیکھو اس شخص کا کوئی عمل رہ تو نہیں گیا؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمارے علم میں جو کچھ آیا ہم نے لکھ دیا ہے۔ تو اللہ کریم فرمائے گا، اسکی ایک نیکی ایسی ہے جو تم نہیں جانتے، میں تمہیں بتاتا ہوں، وہ ہے ذکرِ خفی"
(رواه ابو یعلی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "بہترین ذکر، ذکرِ خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو ضروریات کو کافی ہو"
(رواہ احمد)

~ نعمان بخاری ~

Nimaz chorna



باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت، 
مفہوم حدیث: 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
فرض نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جو جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑ دیتا ہے تو اس سے اللہ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے، 
شراب نوشی مت کرنا کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے 
(مجمع الزوائد، جلد 4، 
صفحہ 391، حدیث 7110، 
کتاب الوصیہ، 
راوی: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ، 
ناشر: دارالفکر، بیروت)

Qasam kana



سوال__ کیا کسی انسان کے نام کی قسم کهانا جائز هے ؟ اگر کسی نے کهالی اور پهر توڑ دی کیا اس کا کفارا هوگا ؟

جواب__ الله تعالی کے سواء کسی بهی انسان کی قسم کهانا جائز نهیں هے نبی کے نام کی قسم بهی جائز نهیں هے.
اگرکوئی انسان کی قسم کهائے * مثلا اولاد کی ، ماں باپ کی ، یا کسی بهی انسان کی * تو یه قسم شرعا نهیں هوتی هے .

اگر کوئی انسان کی قسم کهائے تو وه انسان گنهگار هوگا کیونکه الله تعالی کے سواء کسی قِسم کی قَسم کهانا حرام هے اس کو توبه کرنا چاهیے اور یه قسم نهیں هوتی هے. اور نه کفاره هے انسان کے نام کی قسم توڑنے پر....توبه کرنا ضروری هے.
_______________________
لایقسم بغیر الله تعالی..... ردالمحتار ج۳ ص۷۱۲ .
فتاوی عالمگیری ، کتاب الایمان ج۲ ص۵۱ .

اگر کسی نے قرآن پاک کی قسم کهائے تب یه قسم هوجاتی هے اگر کوئی توڑ دے تب اس پر کفارا بهی لازم هے .

اور قسم کا کفارا یه هے !
دس مسکینوں کو ایک دن صبح وشام دونوں وقتوں کا کهانا کهلا دے
یا دس مسکینوں کو ایک ایک کپڑا کم ازکم اتنا جس کی تهبند هوسکے دیدے .
اور اگر اتنا خرچ موجود نه هو تو پهر تین روز متواتر روزے رکهے.

* فتاوی دارالعلوم دیوبند ج۱ ص۴۱۵ *
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...