Thursday, 25 July 2013

Zaid bin haris

ایک نو عمر عرب لڑکا مکہ کی منڈی میں بطورغلام فروخت ہوا ۔اس کا نام زید بن حارث تھا اور اس کا تعلق شمالی عرب کے ایک بڑے قبیلہ کلب سے تھا۔ اس لڑکے کو بنو کلب کے ایک ہمسایہ قبیلہ نے ایک تصادم کے د وران گرفتا ر کر لیا تھا اور مکہ لا کر فروخت کر دیا ۔یہ لڑکا بڑا حسین اور دانشمند تھا بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ نے اسے خرید لیا اور اسے اپنے شوہر کی خدمت میں بطور ذاتی ملازم کے پیش کیا۔اس لڑکے کے غمزدہ باپ جو اپنے قبیلہ کے سردا ر تھا،بیٹے کی تلاش میں دور دور تک مارا مارا پھر تا رہا اور با لاخر اسے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا کہا ہے وہ بھاری رقم لے کر پہنچا تا کہ زرِ فدیہ ادا کر کے بچے کو آزاد کر ائے جب وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بپتا سے بے حد متاثر ہوئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بچے کو یوں واپس خرید نے کی نسبت ایک اور بہتر طریقہ بھی ہے وہ یہ کہ میں خود بچے سے پوچھ لیتا ہوں۔ اگر وہ آپ کے ساتھ جانا چاہے آپ ایک کوڑی ادا کئے بغیر اپنے بیٹے کو لے جا سکتے ہیں ۔ اس کے بعد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو بلایا، وہ فوراً ہی حاضری خدمت ہوا اور اپنے باپ کو پہچان لیا۔ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زید سے جانے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بلا توقف جواب دیا۔ آپ نے مجھ سے جو محبت بھرا سلوک کیا ہے اس کے بعد میں آپ کے ہاں بطورِ غلام رہنے کو اپنے باپ کے گھر بطورِ آقا زندگی گذار نے پر ترجیح دیتا ہوں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس رقت انگیزجواب سے بے حد متاثر ہو ئے انھوں نے لڑکے کا ہاتھ پکڑا اسے کعبہ کے احاطہ میں لے گئے اور سرِ عام اعلان کیا۔ میں زید کو آزاد کرتا ہوں اور آج سے اسے گود لیتا ہو۔ زید کے والد حارث تو خالی ہاتھ لوٹے مگر ان کا دل اپنے بیٹے کی پرورش کے ضمن میں اطمینان سے پُر تھا۔

0 comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...